HELP BALOCHISTAN Cyclone Victims

HELP BALOCHISTAN Cyclone Victims
مکران ‘ دُولاب جتیں بلوچاں کمک کن اِت

The President of Baloch National Movement

Saturday, January 2, 2010

پاکستانی حکمرانوں کا دورہ گوادر بلوچوں کے مفاد کے لیے نہیں محض اپنے عیاشانہ طبیعت کے تسکین کے لیے تھا ' عصا ظفر

کوئٹہ ( پ ر ) بلوچ نیشنل موونٹ کے قائمقام صدر عصاظفر نے کہاہے کہ پاکستانی حکمرانوں کا دورہ گوادر بلوچوں کے مفاد کے لیے نہیں محض اپنے عیاشانہ طبیعت کے تسکین کے لیے تھا ۔قابض حکمرانوں نے مقبوضہ بلوچستان کی مقدس سرزمین پر اُنہی پرفریب وعدوں کو دہرایا جو پاکستان کے سابق فوجی جنرل مشرف نے کیے تھے اور بلوچ قوم کا جواب بھی وہی تھا جوانہوں نے مشرف کو دیاتھا۔ اس دورے کوقابض حکمرانوں کادورہ قرار دے کر بی این ایف نے شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کی کا ل دی تھی جسے بلوچ عوام نے کامیاب بناکر تحریک آزادی سے ہم آہنگی کا ثبوت دیا۔پاکستانی حکمرانو ں کی آمد پر مکران بھر میں ہڑل کا مقصد صرف این ایف سی ایوارڈ کو مسترد کرنا نہیں بلکہ دنیاکو یہ پیغام دینا مقصود تھاکہ ہم پاکستان کے قابض حکمرانوں کی بلوچستان آمد پر خوش نہیں یہ گوادر عوام کی گزشتہ مشرف رجیم کے دور سے ایک غیرت مند روایت کا تسلسل ہے کہ جب بھی قابض حکمرانوں نے گوادر کی سر زمین پر قدم رکھا اُن سے اظہار نفرت کے لیے شدید احتجاج کیا گیا ۔ بی این ایف کے کارکنان کے پر خلوص جد وجہد آزادی سے گھبراکر پنجابی ایجنسیاں اُ نہیں غواء کر کے غائب کررہی ہیں بی این ایم کے مرکزی کمیٹی کے ممبر غفور بلوچ کا اغوا ء بھی بلوچ جھدکاروں کے خلاف پنجابی ریاست کی اسی دہشت گردانہ پالیسی کا تسلسل ہے ۔حکمران چاہتے ہیں کہ ہم اپنے اصل مقصد کو بھلا کر گمشدہ افراد کی بازیابی کی تحریک میں اُلجھ جائیں اور وہ بے گناہ سیاسی کارکنان کو مفلوج کر کے یکے بعد دیگر رہا کر کے دنیا کو یہ جتائے کہ وہ بلوچوں کے مطالبات تسلیم کر رہاہے ۔ حکمرانوں پر واضح کردیا گیاہے کہ تحریک آزادی میں شہادت کا مرتبہ پانے والے بلوچستان کے سپوتوں نے شہادت کو قبول کرتے ہوئے اس میں شمولیت اختیار کی تھی شہید نواب اکبر خان ‘شہید بالاچ اور شہید واجہ غلام محمد کی شہادت کے انتقام کی آگ کسی کے سولی چڑھنے سے نہیں بجھنے والی بلوچ قومی آزاد ی ہی اصل انتقام اور اس جنگ کا منطقی انجام ہے ۔ظلم وجبر بلوچ قوم کو پسپا کرنے پر مجبور نہیں کرسکتے قوم یہ جنگ ہتھیاروں سے نہیں قومی جذبے سے لڑرہی ہے جذبات کو طاقت سے زیر کرنے کی ریاست کی طفلانہ خواہش کامقابلہ بلوچ قوم اپنی بے مثال صبر وہمت سے کررہی ہے ۔ بلوچ قومی تحریک کی بدولت بلوچ سماج میں انقلابی تبدلیاں آچکی ہیں قوم کا ہر فرد اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے تحریک آزادی میں کردار اداکر رہاہے ۔قابض حکمران اپنے زرخرید لوگوں کی مدد سے تحریک آزادی کے اثرات کو محدود کرنے اورجاری جنگ آزادی کو معمولی نوعیت کے مراعات اور حقو ق کی جنگ قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں ۔ پاکستانی میڈیا بھی اپنی آنکھ اور کان بند کر کے استحصالی نظریات کی حمایت میں پروپیگنڈہ کررہاہے جو کہ صحافت جیسے مقدس شعبے کے شایان شان نہیں۔پاکستانی حکمرانوں کی تقریب اتنی جاندار نہیں تھی جتنا اسے میڈیا پر دکھایاگیا۔ پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا کی موجودگی میں گوادر کے عوام نے قابض حکمرانوں کی گوادر آمد کے خلاف زبردست احتجاج ریکارڈ کروایا جسے پاکستانی میڈیانے کورریج نہ دے کرمنافقت کی حد کرد ی۔ اس منافقانہ صحافتی ماحول میں ان بلوچ صحافیوں کا کردار قابل ستائش ہے جو اپنے بساط کے مطابق قوم کی آواز اُجاگرکرر ہے ہیں

No comments:

Post a Comment